نام: شہید گل حمد مری
ولد: فیض محمد مری
عرف: گل جان
علاقہ: چمالنگ، بلوچستان
تاریخِ وفات: 9 جنوری 2024
شہید گل حمد مری عرف گل جان بلوچستان کے علاقے چمالنگ کے بہادر، مخلص اور باکردار فرزند تھے۔
انہوں نے اپنی جوانی قوم، سچائی اور خدمتِ خلق کے لیے وقف کر دی۔ ان کی زندگی استقامت، قربانی اور خلوص کی ایک روشن مثال ہے۔
2001 میں انہوں نے اپنی قومی و سماجی جدوجہد کا آغاز کیا اور چمالنگ، کوہستان سمیت متعدد اہم محاذوں پر اپنی دیانت داری، بہادری اور خدمت سے نمایاں مقام حاصل کیا۔
ان کی پہچان ہمیشہ ایک سچے، مخلص اور نرم گفتار ساتھی کے طور پر رہی۔
2005 میں ہیپاٹائٹس کی تشخیص ہوئی، جس کے بعد وہ جگر کے کینسر میں مبتلا ہوئے۔ بیماری کے باوجود انہوں نے کبھی اپنی ذمہ داریوں سے منہ نہیں موڑا اور آخری دم تک اپنی جدوجہد جاری رکھی۔
2015 میں وہ ریاستی اداروں کے ہاتھوں قید و اذیت کا شکار ہوئے اور 17 ماہ تک عقوبت خانوں میں تشدد برداشت کرنے کے بعد رہا ہوئے۔
ان کا خاندان بھی مختلف ادوار میں جبر، جلاوطنی اور قربانیوں کی سختیاں سہتا رہا، مگر انہوں نے ہمیشہ وقار اور استقامت کو اپنی ڈھال بنایا۔
شہید گل حمد مری، شہید درویش مری کے بھائی تھے، جو دسمبر 2011 میں کوئٹہ میں ایک فدائی مشن کے دوران شہید ہوئے۔
یوں یہ خاندان قربانی، حوصلے اور عزم کی ایسی داستان رقم کر گیا جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
شہید گل حمد مری نے اپنی پچیس سالہ جہد کے دوران جو سچائی، خدمت اور صبر کا مظاہرہ کیا، وہ ان کی روحانی عظمت کی دلیل ہے۔
ان کا کردار ہر اس نوجوان کے لیے پیغام ہے جو اپنے وطن، اپنے لوگوں اور اپنے اصولوں سے وفادار رہنا چاہتا ہے۔
ہم شہید گل حمد مری کو احترام، محبت اور فخر کے ساتھ یاد کرتے ہیں۔
ان کی قربانی آنے والے وقتوں میں حوصلے، عزم اور روشنی کی علامت بن کر زندہ رہے گی۔