نام: شہید دل وش بلوچ
ولد: مولانا رحمت اللہ
علاقہ: دلسر (مند)، بلوچستان
تاریخِ پیدائش: 13 فروری 1978
تاریخِ شہادت: 8 اگست 2007 (سوراپ، مند)
شہید دل وش بلوچ دلسر مند کے وہ بہادر، مخلص اور پرعزم فرزند تھے جنہوں نے اپنی جوانی قوم کی خدمت، سچائی اور آزادی کے لیے نچھاور کر دی۔ ان کی زندگی استقامت، خلوص، بہادری اور قربانی کی ایک روشن مثال ہے۔
جب مقبوضہ فورسز نے نئے ایجنڈے کے ساتھ بلوچ قوم کو ختم کرنے کی کوشش کی، تو مادر وطن نے اپنے بہادر بیٹوں کو دفاع کے لیے بلایا۔ شہید دل وش ان میں سے پہلے تھے جنہوں نے ہتھیار اٹھائے اور قومی صفوں میں شامل ہوئے۔
انہوں نے مادر وطن کی تکلیف کو اپنے دل میں سمایا اور اپنی جان سے آزادی کی راہ کو روشن کیا۔
ان کی قربانی نے قوم کے لیے ایک نوبل مقصد کی تصدیق کی۔ شہید دل وش ایک ایماندار، بے خوف اور بہادر بیٹے مادر وطن کے تھے۔
انہوں نے نہ صرف اپنا نام تاریخ میں روشن کیا بلکہ اپنی ماں اور مادر وطن پر فخر کا اضافہ کیا۔ ان کی ماں نے کہا کہ وہ نہ صرف میرا بیٹا تھا بلکہ بلوچستان کا بہادر بیٹا تھا۔ اس نے اپنی جان مادر وطن کے لیے قربان کر دی اور مجھے اپنا فرض ادا کر دیا۔
شہید دل وش بلوچ نے 8 اگست 2007 کو سوراپ مند میں پاکستانی فوج کے محاصرے کے دوران شدید لڑائی میں جام شہادت نوش کیا۔ کچھ غداروں کی اطلاع پر قابض فوج نے علاقے کو گھیر لیا اور سرنڈر کا مطالبہ کیا، مگر شہید دل وش اور ان کے ساتھی نے مزاحمت کی، سر جھکانے سے انکار کیا اور شدید جھڑپ میں آخری سانس تک لڑتے ہوئے شہادت کو ترجیح دی۔
ان کی شہادت نے بلوچ قوم کے لیے امر ہونے کی مثال قائم کی۔ شہید دل وش ایک سچے، نرم گفتار اور وفادار ساتھی تھے۔
ان کی بہادری اور قربانی ہر نوجوان کے لیے مشعل راہ ہے۔
ہم شہید دل وش بلوچ کو احترام، محبت اور فخر کے ساتھ یاد کرتے ہیں۔ ان کی قربانی آنے والے وقتوں میں حوصلے، عزم اور روشنی کی علامت بن کر زندہ رہے گی۔